×

سال 2018 میں شروع کی گئی “ہوشیار رہیں، محفوظ رہیں” مہم، ایم سی بی بینک لیمیٹیڈ کی ایک عوامی آگاہی مہم ہے، جس کا مقصد بینکاری صارفین اور عام پاکستانی شہریوں کو جدید دور کے فراڈ کے طریقوں سے آگاہ کرنا، محفوظ الیکٹرانک بینکاری کو فروغ دینا اور ممکنہ دھوکہ دہی سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔ اس مہم کا مقصد عوام میں یہ شعور اجاگر کرنا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور مالی معلومات جیسے پن کوڈ، CVV، OTP وغیرہ کو محفوظ رکھیں اور مختلف قسم کے فراڈ سے خود کو بچائیں۔ BEAWARESTAYSAFE"#" ایک ایسا پیغام ہے جس پر عمل کر کے اس قسم کے جرائم سے بچا جا سکتا ہے۔ ایم سی بی بینک لیمیٹیڈ اس مہم کے ذریعے عوام کو جدید فراڈ کے طریقوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بااختیار بنا رہا ہے۔ ایک نمایاں قومی ادارے کے طور پر، بینک پاکستان کے ہر حصے میں خدمات انجام دے رہا ہے اور جدید فراڈ کے بدلتے ہوئے رجحانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسی مقصد کے تحت بینک مسلسل اپنے صارفین کو ان کے ماحول اور ممکنہ فراڈ خطرات کے بارے میں زیادہ آگاہ بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل فراڈ کی چند عام اقسام درج ذیل ہیں:

• وشنگ / جعلی فون کالز کے ذریعے فراڈ

فراڈیے وائس اوور آئی پی (VOIP) کے ذریعے جعلی کال سینٹر قائم کرتے ہیں۔ وہ جعلی انعامات، حکومتی نمائندوں یا بینک اہلکاروں کا روپ دھار کر صارفین سے بینکاری معلومات کی تصدیق کے بہانے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات ہیکرز بینک کے اصل UAN نمبرز استعمال کر کے بھی صارفین کو کال کرتے ہیں اور انہیں خفیہ معلومات فراہم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس طریقے کو کال اسپوفنگ بھی کہا جاتا ہے۔

• POS اسکیمنگ / پوائنٹ آف سیل کے ذریعے فراڈ

POS اسکیمرز ایسے الیکٹرانک آلات ہوتے ہیں جو بلنگ کاؤنٹر یا کیش رجسٹر پر کارڈ اور PIN سے متعلق حساس معلومات چوری کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ یا اے ٹی ایم / ڈیبٹ کارڈ کو ہمیشہ اپنی نظر میں رکھنا چاہیے، چاہے ادائیگی ریسٹورنٹ، پیٹرول پمپ یا کسی اور جگہ پر کی جا رہی ہو۔ مجرم اسکیمنگ ڈیوائسز کے ذریعے کارڈ کی میگنیٹک اسٹرپ سے معلومات چرا لیتے ہیں۔

• اے ٹی ایم اسکیمنگ / اے ٹی ایم کے ذریعے فراڈ

یہ ایک غیر قانونی سرگرمی ہے جس میں ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈ کی پشت پر موجود میگنیٹک اسٹرپ سے اکاؤنٹ کی معلومات چوری کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اے ٹی ایم پر مختلف الیکٹرانک آلات نصب کیے جاتے ہیں۔ اس فراڈ میں عام طور پر تین چیزیں شامل ہوتی ہیں: یہ ایک غیر قانونی سرگرمی ہے جس میں ڈیبٹ، کریڈٹ یا پری پیڈ کارڈ کی پشت پر موجود میگنیٹک اسٹرپ سے اکاؤنٹ کی معلومات چوری کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اے ٹی ایم پر مختلف الیکٹرانک آلات نصب کیے جاتے ہیں۔ اس فراڈ میں عام طور پر تین چیزیں شامل ہوتی ہیں: • PIN چوری کرنے کے لیے خفیہ کیمرہ • PIN ریکارڈ کرنے کے لیے کی پیڈ اوورلے • کارڈ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے کارڈ انسرٹ اوورلے

• اسمشنگ / جعلی ایس ایم ایس کے ذریعے فراڈ:

ایس ایم ایس فِشنگ یا اسمشنگ ایک مجرمانہ سرگرمی ہے جس میں ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں سے ذاتی معلومات، پاس ورڈز یا دیگر حساس تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ فراڈیے جعلی کہانیوں کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی معلومات فراہم کر دیں۔ صارفین کو ہمیشہ یہ یقینی بنانا چاہیے کہ موصول ہونے والا ایس ایم ایس کسی قابلِ اعتماد اور مستند ذریعے سے آیا ہو۔

• سوشل انجینئرنگ:

سوشل انجینئرنگ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں لوگوں کو ذہنی طور پر متاثر کر کے ان سے خفیہ معلومات حاصل کی جاتی ہیں، بجائے اس کے کہ تکنیکی ہیکنگ یا سسٹم بریکنگ کی جائے۔ اس اصطلاح کا استعمال عموماً دھوکہ دہی، معلومات اکٹھی کرنے، فراڈ یا کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اکثر صورتوں میں حملہ آور کا متاثرہ فرد سے براہِ راست سامنا بھی نہیں ہوتا۔

• جعلی ویب سائٹس اور جعلی ای میلز کے ذریعے فراڈ:

جعلی ویب سائٹس کے ذریعے صارفین کی خفیہ مالی معلومات حاصل کرنے کے عمل کو فِشنگ کہا جاتا ہے۔ ایسی ویب سائٹس کی ظاہری شکل اصل ویب سائٹس جیسی ہوتی ہے اور عموماً فرق صرف URL ایڈریس میں ہوتا ہے۔ اسی طرح جعلی ای میلز بھیج کر لوگوں سے خفیہ مالی معلومات حاصل کرنے کو ای-میل اسپوفنگ یا ای میل فِشنگ کہا جاتا ہے۔ ایسی ای میلز بظاہر کسی قابلِ اعتماد ادارے کی جانب سے معلوم ہوتی ہیں، جس کے باعث لوگ آسانی سے دھوکہ کھا سکتے ہیں۔

آسانی سے ویب سائیٹ استعمال کریں
ان شارٹ کٹس کے ذریعے

یہاں سے اہم ویب صفحات تک فوری رسائی حاصل کریں۔